اپنی جان بچانے اور اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، اس راہب نے خانقاہ کے عمائدین سے یہ وعدہ کیا کہ وہ محض ایک رات کے اندر ایک ایسی کتاب لکھے گا جس میں دنیا بھر کا علم سمویا جائے گا اور جو اس خانقاہ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دے گی۔ جب آدھی رات گزر گئی اور راہب کو احساس ہوا کہ وہ اکیلا یہ کام مکمل نہیں کر سکتا، تو اس نے مبینہ طور پر خدا کے بجائے شیطان سے مدد مانگی۔ شیطان نے اس مکتوب کو ایک رات میں مکمل کرنے کی شرط کے طور پر اپنی تصویر کتاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ صبح ہونے پر کتاب تیار تھی اور اسی وجہ سے اس کے ایک صفحے پر شیطان کی ایک بڑی تصویر بنی ہوئی ہے جو قرون وسطیٰ کے کسی اور مکتوب میں نہیں ملتی۔ مکتوب کی جسمانی ساخت اور حجم
ایک قدیم روایت کے مطابق، ایک راہب (Monk) نے اپنی سزا سے بچنے کے لیے یہ وعدہ کیا کہ وہ ایک ہی رات میں تمام انسانی علم پر مبنی کتاب لکھے گا۔ جب اسے احساس ہوا کہ یہ ناممکن ہے، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے کتاب مکمل کروائی۔ شیطان کی تصویر: codex gigas book in urdu
شیطان کی تصویر تو صرف ایک پرانی سیاہی ہے، لیکن اس کتاب کے بارے میں لوگوں کا خوف اور تجسس آج بھی اتنا ہی شدید ہے جتنا 800 سال پہلے تھا۔ codex gigas book in urdu
یہ مضمون اردو قارئین کے لیے اس کتاب کی تاریخ، اس کے اندر موجود شیطان کی تصویر، اور اس سے منسوب عجیب و غریب داستانوں پر روشنی ڈالے گا۔ codex gigas book in urdu
جیسے ہی آپ اس کتاب کو صفحہ 290 پر کھولتے ہیں، آپ کی روح کانپ جاتی ہے۔ پورے صفحے پر بنی ہوئی ہے۔ یہ تصویر قرونِ وسطیٰ کی علامتی آرٹ کی شاہکار ہے۔
یہ کتاب کئی صدیوں تک مختلف بادشاہوں اور قلعوں میں رہی۔ تیس سالہ جنگ (Thirty Years' War) کے دوران، سویڈش فوج نے اسے پراگ سے لوٹ کر اسٹاک ہوم پہنچا دیا۔
Codex Gigas book in Urdu کے متلاشی افراد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کتاب شیطان کی طرف سے لکھی گئی ذاتی بائبل نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی علامت ہے کہ خوف، مذہب، عقیدت اور خطرہ کیسے ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔